سانحہ کرائسٹ چرچ کے دہشتگرد برینٹن ٹیرنٹ کی عدالت میں ویڈیو کے ذریعے پیشی حاضری کیس کی سماعت کے دوران لواحقین کی آنکھیں نم

کرائسٹ چرچ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔5اپریل۔2019ء) پچاس مسلمانوں کے قاتل اور نیوزی لینڈکو بدنامی کا داغ دینے والا سفید فام دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ آج جمعہ کے روز کرائسٹ چرچ کی مقامی عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔سفید فام دہشت گرد پر دو مساجد میں حملہ اور پچاس کے قریب لوگوں کے قتل کا الزام ہے۔28سالہ سفید فام دہشت گرد کو 15مارچ کو دہشت گردانہ کارروائی کے سلسلہ میں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
ملزم کی آج ہائی کورٹ میں دوسری پیش تھی۔تاہم سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ٹیرنٹ کو جیل سے ہی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔اس موقعہ پر عدالت میں کچھ شہدا کے لواحقین بھی موجود تھے۔جج کیمرون مینڈر نے جب 28سالہ سفید فام دہشت گرد سے اس کا نام پوچھنے کے بعد یہ پوچھا کہ کیا آپ کو میری آواز سنائی دے رہی ہے تو جج کے ان الفاظ پر شہدا کے اہل خانہ آبدیدہ ہو گئے۔
جبکہ کچھ والدین اپنے آنسوﺅں پر قابو نہ پا سکے اور پھوٹ پھوٹ کر روپڑے۔لواحقین کا کہنا تھا کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے اپنوں کو اس سفید فام دہشت گرد نے شہید کر ڈالا۔یاد رہے کہ 15مارچ کو جمعہ کے ہی روزجدید مشین گنوں کے ذریعے اس سفید فام دہشت گرد نے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں گھس کر نمازیوں کو گولیوں سے چھلنی کر ڈالا تھا۔حالانکہ اس سفید فام اور سفاک دہشت گرد نے اس واقعہ کی لائیو سٹریمنگ فیس بک کے ذریعے کی تھی جس کی وجہ اسلاموفوبیااور دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف دیگر مذاہب کے لوگوں کوا شتعال دلانا اور انہیں بھی ایسی کارروائیاں کرنے پر اکسانا تھا۔
حیرانی کی بات تو یہ بھی ہے کہ 7منٹ کی اس لائیو دہشت گردی کی سٹریمنگ میں فیس بک نے نہ تو کوئی ایکشن لیااور نہ ہی سٹریمنگ بند کی اور نہ ہی دہشت گرد کی لوکیشن مقامی پولیس کو بھیجی تاکہ پولیس بروقت پہنچ کر اس دہشت گرد کوگرفتار کرتی۔اصل میں یہ سفید فام دہشت گرد مغرب میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشددد کو پروموٹ کرنا چاہتا تھا مگر پوری دنیا نے دیکھا کہ اس واقعہ کے بعد نہ صرف وہ لوگ مسلمانوں کے قریب ہو گئے بلکہ ان کے دلوں میں اسلام سے محبت بھی پیدا ہو گئی۔
سفید فام دہشت گرد کی اس کارروائی کے بعد نیوزی لینڈ حکومت نے اسلحہ سے متعلق نیا قانون بھی پاس کیاجس میں کوئی بھی شہری اپنے پاس جدید اسلحہ اور منی مشین گن نہیں رکھ سکتا۔جبکہ اس دہشت گرد کے خلاف دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت کارروائی چلائی جا رہی ہے جس حوالے سے آج اس کی دوسری بار کورٹ میں پیشی تھی اور اس پیشی کے موقعہ پر کرائسٹ چرچ کی مسجد میں شہید ہونے والے شہدا کے لواحقین بھی موجود تھے جن کے کانوں میں اس سفید فام دہشت گرد کی آوز پڑتے ہی وہ آبدیدہ ہو گئے۔
لواحقین کا کہنا تھا کہ ویڈیو لنک پر اس دہشت گرد کی تصویر دیکھ کر انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں کیونکہ ان سے اس دہشت گرد کا چہرہ بھی نہیں دیکھا جا رہا تھااور وہ اپنے آنسوﺅں کو بھی کنٹرول نہیں کر پائے اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔لواحقین کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ نیوزی لینڈ کے عدالتی انصاف سے مطمئن ہیں اور پرامید ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔
اس بار تو سکیورٹی خدشات کی وجہ سے 28سالہ سفید فام دہشت گرد کو عدالت نہیں لایا جا سکا تاہم امید کی جا رہی ہے کہ14جون کو اسے عدالت میں ضرور پیش کیا جائے گا۔سفید فام آسٹریلوی دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو پچاس مسلمانوں کے قتل کے الزام میں آج ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔برینٹن گرے رنگ کے جیل کے کپڑوں میں ملبوس تھااور اسے ہتھکڑی بھی لگی ہوئی تھی۔
کرائسٹ چرچ کی ہائی کورٹ عدالت کے جج کیمرون مینڈر نے کہا کہ اس سے قبل برینٹن ٹیرنٹ کا کیس باقاعدہ سماعت کے لیے شروع کیا جائے اس بات کی تسلی کر لی جائے کہ وہ دماغی طور پر درست ہے اور اس کے کیس کی شنوائی کی جا سکتی ہے۔اس آرڈر کے ساتھ جج نے برینٹن کو دوبارہ 14جون کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔برینٹن ٹیرنٹ کی طرف سے دو وکلا شین ٹیٹ اور جوناتھن ہڈسن پیش ہوئے۔
برینٹن کے کیس کی عدالت میں یہ دوسری بار حاضری تھی جو سکیورٹی خدشے کی وجہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے ممکن بنائی گئی۔یادرہے کہ سفید فام دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ پر کرائسٹ چرچ کی مسجد میں نمازیوں پر حملہ کرنے اور پچاس لوگوں کے قتل کا مقدمہ دائر ہے۔نیوزی لینڈ جیسے ملک میں اس سے قبل کوئی بھی ایسی دہشت گردانہ کارروائی نہیں ہوئی۔یہی وجہ ہے کہ ان کی مقامی پولیس کو بھی اسلحہ کے استعمال کی اجازت صرف ناگزیر حالات میں ہی ہے اور وہاں اس قسم کے کرائم کی شرح زیرو کے برابر ہی رہی ہے۔
تاہم پہلی بار اس آسٹریلوی سفید فام دہشت گرد نے ایک باقاعدہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی اورکافی عرصے کی ٹریننگ کے بعدیہ قدم اٹھایا۔جس دن جمعہ کے روز یہ دلدوزواقعہ پیش آیا اس دن کرائسٹ چرچ کے سبھی افراد مسلمانوں کی دلجوئی کے لیے اکٹھے ہو گئے اور غم کے اس موقعہ پر ان کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئے۔یہاں تک کہ کیوی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن بھی موقعہ پر پہنچیں اور مسلمانوں کی دلجوئی کی۔
چونکہ اب اس سفید فام دہشت گرد پر پچاس مسلمانوں کے قتل اور 39لوگوں پر قتل کرنے کی کوشش کا کیس عائد کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے آسٹریلوی دہشت گرد کے دو وکلا بھی عدالت میں پیش ہو چکے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہ کیس کب تک اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔امید یہی کی جا رہی ہے کہ اس سفید فام دہشت گرد کو قرار واقعی سزا دی جائے گی اور باقی دنیا میں بھی اس قسم کی ذہنیت کے مالک لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

Source: UrduPoint

This post has been Liked 0 time(s) & Disliked 0 time(s)